غزل

اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس

اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس
جگر مرادآبادی· Ghazal· 11 shers· radif: नहीं होता

یہ غزل عشق میں مسلسل دکھ جھیلنے کے بعد پیدا ہونے والی اس کیفیت کا احاطہ کرتی ہے جہاں دل درد کے احساس سے بھی بےگانہ ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ اس فلسفیانہ حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ محبت کی آزمائشوں اور رسوائیوں سے گزرے بغیر انسان باوقار اور پختہ نہیں بن سکتا۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
अब तो ये भी नहीं रहा एहसास दर्द होता है या नहीं होता
اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس درد ہوتا ہے یا نہیں ہوتا
اب تو یہ احساس بھی باقی نہیں رہا کہ درد ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔
2
इश्क़ जब तक न कर चुके रुस्वा आदमी काम का नहीं होता
عشق جب تک نہ کر چکے رسوا آدمی کام کا نہیں ہوتا
جب تک عشق انسان کو رسوا اور بدنام نہ کر دے، تب تک وہ کسی کام کے لائق نہیں بنتا۔
3
टूट पड़ता है दफ़अ'तन जो इश्क़ बेश-तर देर-पा नहीं होता
ٹوٹ پڑتا ہے دفعتاً جو عشق بیشتر دیر پا نہیں ہوتا
جو عشق اچانک اور یکدم شدت سے ہوتا ہے، وہ عموماً زیادہ پائیدار یا دیرپا نہیں ہوتا۔
4
वो भी होता है एक वक़्त कि जब मा-सिवा मा-सिवा नहीं होता
وہ بھی ہوتا ہے ایک وقت کہ جب ماسوا ماسوا نہیں ہوتا
ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب محبوب یا خدا کے سوا کوئی بھی شے غیر یا الگ نہیں رہتی۔
5
हाए क्या हो गया तबीअ'त को ग़म भी राहत-फ़ज़ा नहीं होता
ہائے کیا ہو گیا طبیعت کو غم بھی راحت فزا نہیں ہوتا
افسوس، میری طبیعت کو کیا ہو گیا ہے کہ اب دکھ اور غم سے بھی کوئی راحت یا سکون نہیں ملتا۔
6
दिल हमारा है या तुम्हारा है हम से ये फ़ैसला नहीं होता
دل ہمارا ہے یا تمہارا ہے ہم سے یہ فیصلہ نہیں ہوتا
ہم سے یہ فیصلہ نہیں ہو پا رہا کہ یہ دل ہمارا ہے یا تمہارا ہے۔
7
जिस पे तेरी नज़र नहीं होती उस की जानिब ख़ुदा नहीं होता
جس پہ تیری نظر نہیں ہوتی اس کی جانب خدا نہیں ہوتا
جس شخص پر تمہاری نظرِ عنایت نہیں ہوتی، اس کی طرف خدا بھی متوجہ نہیں ہوتا۔
8
मैं कि बे-ज़ार उम्र भर के लिए दिल कि दम-भर जुदा नहीं होता
میں کہ بے زار عمر بھر کے لیے دل کہ دم بھر جدا نہیں ہوتا
میں تو عمر بھر کے لیے بیزار ہو چکا ہوں، مگر یہ دل ہے کہ ایک لمحے کے لیے بھی جدا نہیں ہوتا۔
9
वो हमारे क़रीब होते हैं जब हमारा पता नहीं होता
وہ ہمارے قریب ہوتے ہیں جب ہمارا پتا نہیں ہوتا
وہ اس وقت ہمارے سب سے قریب ہوتے ہیں جب ہمارے اپنے وجود یا ٹھکانے کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا۔
10
दिल को क्या क्या सुकून होता है जब कोई आसरा नहीं होता
دل کو کیا کیا سکون ہوتا ہے جب کوئی آسرا نہیں ہوتا
جب کسی سے کوئی آسرا یا امید باقی نہیں رہتی، تو دل کو بہت سکون ملتا ہے۔
11
हो के इक बार सामना उन से फिर कभी सामना नहीं होता
ہو کے اک بار سامنا ان سے پھر کبھی سامنا نہیں ہوتا
ان سے ایک بار آمنا سامنا ہونے کے بعد پھر کبھی دوبارہ سامنا نہیں ہوتا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس | Sukhan AI