“Alas, what has come over this disposition of mine? Even sorrow brings no soothing solace now.”
افسوس، میری طبیعت کو کیا ہو گیا ہے کہ اب دکھ اور غم سے بھی کوئی راحت یا سکون نہیں ملتا۔
اردو شاعری میں غم کو ہمیشہ محض اذیت نہیں سمجھا گیا، بلکہ وہ اکثر دل کا غمخوار بن کر روح کو ایک میٹھا سا سکون بھی بخشتا ہے۔ مگر اس شعر میں شاعر بے حسی اور اداسی کی اس انتہا پر پہنچ گیا ہے جہاں دل بالکل سن ہو چکا ہے اور غم کی وہ مانوس راحت بھی اب میسر نہیں رہی۔ یہ باطن کے اُس ہولناک خالی پن کا نوحہ ہے جہاں انسان اپنے ہی احساسات سے کٹ کر مکمل ویرانی کی نذر ہو جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
