اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس
درد ہوتا ہے یا نہیں ہوتا
“Even this awareness has faded away: whether there is pain, or pain no more.”
— جگر مرادآبادی
معنی
اب تو یہ احساس بھی باقی نہیں رہا کہ درد ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔
تشریح
یہ شعر غم اور اذیت کی اس آخری حد کو بیان کرتا ہے جہاں دل دکھ سہتے سہتے بالکل بے حس ہو جاتا ہے۔ شاعر یہ نہیں کہہ رہا کہ اس کی تکلیف مٹ گئی ہے، بلکہ مسلسل چوٹ نے اس سے احساس کی صلاحیت ہی چھین لی ہے۔ یہ روح کے اس ویران سناٹے کی تصویر ہے جہاں انسان پر دکھ اور سکھ دونوں کا اثر ہونا بند ہو جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
1 / 11Next →
