“I, who am weary of life for a whole lifetime long; this heart, which will not part even for a single breath.”
میں تو عمر بھر کے لیے بیزار ہو چکا ہوں، مگر یہ دل ہے کہ ایک لمحے کے لیے بھی جدا نہیں ہوتا۔
اس شعر میں عقل کی بے زاری اور دل کی ازلی ضد کے درمیان کا گہرا تضاد پیش کیا گیا ہے۔ شاعر زندگی کی تلخیوں یا غمِ عشق سے اتنا تھک چکا ہے کہ پوری عمر کے لیے سب کچھ چھوڑ چھاڑ دینا چاہتا ہے، مگر بے بس یہ ہے کہ دل محبوب کے خیال اور تڑپ سے ایک لمحے کے لیے بھی جدا نہیں ہوتا۔ 'عمر بھر' اور 'دم بھر' کا یہ خوبصورت تضاد بتاتا ہے کہ انسان خود چاہے کتنا ہی ناامید کیوں نہ ہو جائے، اس کا دل محبت کا دامن چھوڑنے کو کبھی تیار نہیں ہوتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
