“Until by love thoroughly disgraced and undone, a man is of no real worth to anyone.”
جب تک عشق انسان کو رسوا اور بدنام نہ کر دے، تب تک وہ کسی کام کے لائق نہیں بنتا۔
شاعر یہاں بڑے دلکش انداز میں یہ نکتہ بیان کرتے ہیں کہ جب تک عشق انسان کی انا اور نام نہاد عزت کا بھرم توڑ کر اسے رسوا نہ کر دے، اس کی شخصیت میں سچی پختگی نہیں آتی۔ اردو شاعری میں رسوائی محض بدنامی نہیں بلکہ وہ بھٹی ہے جس میں جل کر انسان کھوٹے سے کھرا بنتا ہے اور اس کی ظاہری بناوٹ ختم ہوتی ہے۔ محبت میں ہر مصلحت گنوا دینے کے بعد ہی دل میں وہ درد، وسعت اور سچی ہمدردی پیدا ہوتی ہے جو کسی کو اصل معنوں میں ایک مکمل اور کارآمد انسان بناتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
