غزل
دیا مدھم جلے
دیا مدھم جلے
یہ غزل ایک دھیمی جلتی ہوئی شمع کا حال بیان کرتی ہے جب ایک مہمان کی آمد متوقع ہے۔ شاعر افسوس کرتا ہے کہ سارا شہر سو رہا ہے اور حیران ہے کہ آسمان میں رتھ کی آواز سنائی دینے کے باوجود مہمان کا استقبال کون کرے گا۔ یہ تنہائی اور انتظار کے احساس کو پیش کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
દીવડો ઝાંખો બળે-
[રાગ : બિહાગ]
દીવડો ઝાંખો બળે-
دیا مدھم جل رہا ہے۔
2
રે મારો દીવડો ઝાંખો બળે.
આજે ઘેર અતિથિ આવે :
میرا چراغ مدھم جل رہا ہے۔ آج گھر پر مہمان آ رہے ہیں۔
3
પલ પલ પડઘા પડે;
સકળ નગર સૂતું છે, સ્વામી!
ہر لمحہ گونجیں سنائی دے رہی ہیں؛ پورا شہر سویا ہوا ہے، اے میرے آقا!
4
તારાં સ્વાગત કોણ કરે. -દીવડો.
તારો રથ ગાજે છે ગગને :
آپ کا استقبال کون کرے؟ ایک چراغ۔ آپ کا رتھ آسمان میں گرج رہا ہے۔
5
ધરતી ધબક્યા કરે;
હે પરદેશી! પોઢણ ક્યાં દેશું!
دھرتی دھڑکتی رہتی ہے؛ اے پردیسی! ہم تمہیں آرام کہاں دیں گے؟
6
નયને નીર ઝરે. -દીવડો.
'સાંજ પડ્યે આવું છું, સજની!'
آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں، اور چراغ کی روشنی مدھم ہے۔ کہنے والا کہتا ہے، 'میں شام ہونے پر آ رہا ہوں، اے پیاری!'
7
એવું કહીને ગયો;
આજ યુગાંતર વીત્યે, વ્હાલા!
ایسا کہہ کر وہ چلا گیا؛ آج ایک زمانہ گزر جانے کے بعد، میرے پیارے!
8
તારાં પગલાં પાછાં વળે. -દીવડો.
સાંજ ગઈ, રજની ગઈ ગુજરી;
شام گزر گئی اور رات بھی گزر گئی۔
9
હાય, પ્રભાત હવે;
ક્યાં રથ! ક્યાં અતિથિ! ક્યાં પૂજન!
ہائے، اب صبح ہو گئی ہے؛ رتھ کہاں ہے، مہمان کہاں ہے، اور پوجا کہاں ہے؟
10
નીંદમાં સ્વપ્ન સરે.
દીવડો ઝાંખો બળે-
نیند میں خواب آہستہ سے بہتے ہیں۔ چراغ مدھم جل رہا ہے، اس کی روشنی کم ہے۔
11
રે મારો દીવડો ઝાંખો બળે.
ارے، میرا چراغ مدھم جل رہا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
