“Alas, now it is morning; Where's the chariot, where the guest, where the worship?”
ہائے، اب صبح ہو گئی ہے؛ رتھ کہاں ہے، مہمان کہاں ہے، اور پوجا کہاں ہے؟
اوہ، یہ شعر صبح کے اس شیریں تلخ احساس کو کتنی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے، جب فجر ہوتے ہی آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ جس چیز کی آپ امید کر رہے تھے یا منصوبہ بنا رہے تھے، وہ تو ہوئی ہی نہیں۔ یہ ایسا ہے جیسے آپ کسی خواب سے بیدار ہوئے ہوں جہاں آپ کو ایک عظیم سفر پر نکلنا تھا ('رتھ')، کسی خاص مہمان کا استقبال کرنا تھا ('عتیتیھ')، یا کوئی مقدس کام انجام دینا تھا ('پوجن')، اور اب آپ خود کو خالی ہاتھ پاتے ہیں۔ یہ کھوئے ہوئے موقع یا کسی امید کے اچانک خاتمے کے احساس کو بڑی مؤثر طریقے سے پیش کرتا ہے، صبح کی تازہ ہوا میں ایک ہلکی سی اداسی چھوڑتے ہوئے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
