“Tears from eyes do stream, the lamp's light low does gleam. 'At fall of evening, love, I'll join your dream!'”
آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں، اور چراغ کی روشنی مدھم ہے۔ کہنے والا کہتا ہے، 'میں شام ہونے پر آ رہا ہوں، اے پیاری!'
یہ شعر انتظار کے شیریں تلخ جذبات کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ پہلی سطر میں آنکھوں سے آنسو بہتے اور دھیمی روشنی میں جلتے دیے کا ذکر تنہائی اور اداسی کا ماحول بناتا ہے۔ لیکن دوسری سطر میں، 'شام ہوتے ہی میں آ رہا ہوں، سجنی!' کا وعدہ ایک امید کی کرن جگاتا ہے۔ یہ جدائی کے لمحات گزارتے ہوئے، محبوب کے آنے کی امید میں ڈوبے دل کی ایک دردناک تصویر ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
