غزل

کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے

کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے
علامہ اقبال· Ghazal· 9 shers· radif: करे

یہ غزل ربِ کائنات کی بے پایاں رحمت اور بندے کی عاجزی و نیاز مندی کے لطیف رشتے کو اجاگر کرتی ہے۔ اس میں واعظ کے اس تنگ نظر تصور پر چوٹ کی گئی ہے جو خدا کو بندوں سے دور کرتا ہے، اور ایک ایسے پروردگار کو پیش کیا گیا ہے جو اپنے بندوں سے قربت اور کرم نوازی رکھتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
कुशादा दस्त-ए-करम जब वो बे-नियाज़ करे नियाज़-मंद न क्यूँ आजिज़ी पे नाज़ करे
کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے نیاز مند نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرے
جب وہ بے نیاز اپنی سخاوت اور کرم کا ہاتھ کشادہ کر دے، تو ضرورت مند اپنی عاجزی اور انکساری پر فخر کیوں نہ کرے۔
2
बिठा के अर्श पे रक्खा है तू ने ऐ वाइ'ज़ ख़ुदा वो क्या है जो बंदों से एहतिराज़ करे
بٹھا کے عرش پہ رکھا ہے تو نے اے واعظ خدا وہ کیا ہے جو بندوں سے احتراز کرے
اے واعظ، تو نے خدا کو آسمان کے عرش پر بٹھا رکھا ہے؛ بھلا وہ کیسا خدا ہے جو اپنے ہی بندوں سے دوری اور پرہیز اختیار کرے؟
3
मिरी निगाह में वो रिंद ही नहीं साक़ी जो होशियारी ओ मस्ती में इम्तियाज़ करे
مری نگاہ میں وہ رند ہی نہیں ساقی جو ہوشیاری و مستی میں امتیاز کرے
اے ساقی، میری نظر میں وہ شخص سچا رند ہی نہیں ہے جو ہوش مندی اور مستی کے درمیان کوئی فرق کرے۔
4
मुदाम गोश-ब-दिल रह ये साज़ है ऐसा जो हो शिकस्ता तो पैदा नवा-ए-राज़ करे
مدام گوش بہ دل رہ یہ ساز ہے ایسا جو ہو شکستہ تو پیدا نوائے راز کرے
ہمیشہ اپنے دل کی طرف متوجہ رہو کیونکہ یہ ایک ایسا ساز ہے جو ٹوٹنے پر ہی راز کی آواز پیدا کرتا ہے۔
5
कोई ये पूछे कि वाइ'ज़ का क्या बिगड़ता है जो बे-अमल पे भी रहमत वो बे-नियाज़ करे
کوئی یہ پوچھے کہ واعظ کا کیا بگڑتا ہے جو بے عمل پہ بھی رحمت وہ بے نیاز کرے
کوئی اس واعظ سے پوچھے کہ اس کا کیا نقصان ہوتا ہے، اگر وہ بے نیاز خدا کسی بے عمل پر بھی اپنی رحمت نازل فرما دے۔
6
सुख़न में सोज़ इलाही कहाँ से आता है ये चीज़ वो है कि पत्थर को भी गुदाज़ करे
سخن میں سوز الٰہی کہاں سے آتا ہے یہ چیز وہ ہے کہ پتھر کو بھی گداز کرے
اے خدا، کلام میں ایسا سوز اور تڑپ کہاں سے آتی ہے؟ یہ ایسی چیز ہے جو پتھر کو بھی پگھلا دیتی ہے۔
7
तमीज़-ए-लाला-ओ-गुल से है नाला-ए-बुलबुल जहाँ में वा न कोई चश्म-ए-इम्तियाज़ करे
تمیز لالہ و گل سے ہے نالۂ بلبل جہاں میں وا نہ کوئی چشم امتیاز کرے
بلبل کا نالہ و فریاد لالہ اور گل میں فرق کرنے کی وجہ سے ہے؛ کاش اس دنیا میں کوئی امتیاز اور تفریق کرنے والی آنکھ ہی نہ کھولے۔
8
ग़ुरूर-ए-ज़ोहद ने सिखला दिया है वाइ'ज़ को कि बंदगान-ए-ख़ुदा पर ज़बाँ दराज़ करे
غرور زہد نے سکھلا دیا ہے واعظ کو کہ بندگان خدا پر زباں دراز کرے
عبادت اور پرہیزگاری کے غرور نے واعظ کو یہ سکھا دیا ہے کہ وہ خدا کے بندوں پر زبان درازی کرے اور ان میں عیب نکالے۔
9
हवा हो ऐसी कि हिन्दोस्ताँ से ऐ 'इक़बाल' उड़ा के मुझ को ग़ुबार-ए-रह-ए-हिजाज़ करे
ہوا ہو ایسی کہ ہندوستاں سے اے اقبالؔ اڑا کے مجھ کو غبار رہ حجاز کرے
اے اقبال! کاش ایسی ہوا چلے جو مجھے ہندوستان سے اڑا لے جائے اور حجاز کے راستے کی دھول بنا دے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.