کوئی یہ پوچھے کہ واعظ کا کیا بگڑتا ہے جو بے عمل پہ بھی رحمت وہ بے نیاز کرے

“Let someone ask what loss the preacher would bear, if upon the deedless too that Self-Sufficient Lord bestows His grace.”

— علامہ اقبال
معنی

کوئی اس واعظ سے پوچھے کہ اس کا کیا نقصان ہوتا ہے، اگر وہ بے نیاز خدا کسی بے عمل پر بھی اپنی رحمت نازل فرما دے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے واعظ کی تنگ نظری پر بڑی خوبصورت اور پُراثر طنز کی ہے۔ اللہ تعالیٰ 'بے نیاز' ہے، یعنی اس کی رحمت کسی حساب کتاب یا اعمال کی محتاج نہیں، وہ چاہے تو اپنے کرم سے ہر گناہ گار کو معاف کر دے۔ شاعر معصومانہ انداز میں سوال کرتا ہے کہ اگر رحیم پروردگار کسی بے عمل انسان پر بھی اپنا لطف و کرم برسا دے، تو اس سے واعظ کا آخر کیا بگڑ جائے گا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.