بٹھا کے عرش پہ رکھا ہے تو نے اے واعظ خدا وہ کیا ہے جو بندوں سے احتراز کرے

“You have seated Him high upon the heavenly throne, O preacher; what kind of God is He who stays aloof from His own mortals?”

— علامہ اقبال
معنی

اے واعظ، تو نے خدا کو آسمان کے عرش پر بٹھا رکھا ہے؛ بھلا وہ کیسا خدا ہے جو اپنے ہی بندوں سے دوری اور پرہیز اختیار کرے؟

تشریح

اس شعر میں شاعر روایتی واعظ کے تصورِ خدا پر چوٹ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تُو نے خدا کو عرشِ بریں پر بٹھا کر اپنی مخلوق سے بہت دور کر دیا ہے۔ شاعر کے نزدیک وہ معبود ہی کیا جو اپنے بندوں سے دوری اور پرہیز رکھے، کیونکہ محبت کرنے والا رب تو دلوں کے قریب ہوتا ہے۔ یہ دراصل رسمی مذہبیت کے خوف والے خدا کے مقابلے میں قربت اور باہمی انسیت کے تصور کی خوبصورت ترجمانی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.