“In my eyes, O cupbearer, he is no true drinker at all, who still draws a line between sobriety and drunken thrall.”
اے ساقی، میری نظر میں وہ شخص سچا رند ہی نہیں ہے جو ہوش مندی اور مستی کے درمیان کوئی فرق کرے۔
شاعر ساقی سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ سچا رند وہ ہے جو ہوش اور بے خودی کے درمیانی فرق کو ہی مٹا دے۔ اگر کوئی شخص مے خانے میں آ کر بھی عقل، دانائی اور نفع نقصان کے حساب کتاب میں الجھا رہے، تو اس کا نشہ ابھی ادھورا ہے۔ عشق اور عرفان کا اصل کمال یہ ہے کہ انسان کا ہوش اس کی مستی بن جائے اور مستی ہی اس کا ہوش بن جائے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
