“The nightingale's lament arises from discerning tulip from rose; in this world, may no eye ever open to make distinctions.”
بلبل کا نالہ و فریاد لالہ اور گل میں فرق کرنے کی وجہ سے ہے؛ کاش اس دنیا میں کوئی امتیاز اور تفریق کرنے والی آنکھ ہی نہ کھولے۔
مرزا غالب اس شعر میں تمام دکھ درد کی جڑ تفریق اور امتیاز برتنے کی عادت کو قرار دیتے ہیں۔ بلبل کا نالہ و فریاد صرف اس لیے ہے کہ وہ گلاب اور لالہ میں فرق کرتی ہے اور ترجیح کی آگ میں جلتی ہے۔ شاعر تمنا کرتے ہیں کہ کاش اس جہان میں کوئی امتیازی نگاہ کھلے ہی نہ، کیونکہ جب تک ہم انسانوں، رشتوں اور چیزوں میں اونچ نیچ اور تفریق تلاش کرتے رہیں گے، دل کا سکون کبھی میسر نہیں آ سکتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
