“May such a wind arise from Hindustan, O Iqbal, that it sweeps me away to become the dust upon the path to Hijaz.”
اے اقبال! کاش ایسی ہوا چلے جو مجھے ہندوستان سے اڑا لے جائے اور حجاز کے راستے کی دھول بنا دے۔
اس شعر میں علامہ اقبال نے دیارِ حجاز اور دربارِ رسالت سے اپنی والہانہ محبت اور قلبی بے قراری کا اظہار کیا ہے۔ وہ کسی شان و شوکت والے مسافر کی طرح نہیں، بلکہ ایک ایسی غیبی ہوا کے منتظر ہیں جو انہیں مٹا کر اس مقدس راہ کا غبار بنا دے۔ عشقِ حقیقی میں اپنی ہستی کو خاک کر دینا اور محبوب کے راستے کی دھول بن جانا ہی اصل میں فقر کی سب سے اونچی معراج ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
