“From where, O God, does such fire enter verse? It is a flame that would melt even stone.”
اے خدا، کلام میں ایسا سوز اور تڑپ کہاں سے آتی ہے؟ یہ ایسی چیز ہے جو پتھر کو بھی پگھلا دیتی ہے۔
شاعر یہاں بڑی حیرت اور عقیدت سے پوچھتا ہے کہ کلام کے اندر دل کو پگھلا دینے والا یہ درد اور اثر آخر کہاں سے آتا ہے۔ یہ محض الفاظ کی بناوٹ نہیں بلکہ روح کی وہ سچی تڑپ اور آگ ہے جو پتھر جیسے سخت دل کو بھی موم کر دیتی ہے۔ یہ شعر بتاتا ہے کہ حقیقی شاعری وہی ہے جو دل کی گہرائیوں سے نکل کر دوسروں کے دلوں میں اتر جائے اور انہیں درد محسوس کرنے پر مجبور کر دے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
