“When the Self-Sufficient One opens wide His generous hand, why shouldn't the needy suppliant take pride in his own humility?”
جب وہ بے نیاز اپنی سخاوت اور کرم کا ہاتھ کشادہ کر دے، تو ضرورت مند اپنی عاجزی اور انکساری پر فخر کیوں نہ کرے۔
اس شعر میں عاجزی اور رحمت کا ایک بے حد دلکش فلسفہ بیان ہوا ہے۔ جب وہ بے نیاز معبود اپنے لطف و کرم کے ہاتھ وسیع کر دیتا ہے، تو ایک سائل کی محتاجی اور بے بسی کمزوری نہیں بلکہ فخر کا سبب بن جاتی ہے۔ انسان اپنی عاجزی پر اس لیے ناز کرتا ہے کیونکہ اس کے جھکے ہوئے سر اور خالی ہاتھوں نے ہی تو اس بے پرواہ ذات کی عنایت کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
