“The pride of his austere devotion has schooled the preacher so, that he wags an insolent tongue against the humble folk of God.”
عبادت اور پرہیزگاری کے غرور نے واعظ کو یہ سکھا دیا ہے کہ وہ خدا کے بندوں پر زبان درازی کرے اور ان میں عیب نکالے۔
اس شعر میں شاعر نے پارسائی کے غرور اور مذہبی ریاکاری پر گہری چوٹ کی ہے۔ عبادت اور پرہیزگاری کا اصل مقصد دل میں عاجزی اور خدا کی مخلوق کے لیے ہمدردی پیدا کرنا ہوتا ہے، لیکن واعظ اپنی نیکی کے گھمنڈ میں آ کر خدا کے بندوں پر زبان درازی کر رہا ہے۔ یہ شعر دراصل یہ سکھاتا ہے کہ سچی بندگی انسان کو خاکسار بناتی ہے، نہ کہ دوسروں کو حقیر سمجھنے کا جواز فراہم کرتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
