غزل
اے جنون دشت عدم کے کوچ کا سامان کیا
اے جنون دشت عدم کے کوچ کا سامان کیا
Source: Kulliyat-e-Aatish (Matba Munshi Naval Kishore, Lucknow) · HI
نغمہ سنیں
1
ऐ जुनूँ दश्त-ए-अदम के कूच का सामान किया
जिस्म के जामे को मैं ने चाक ता दामान किया
اے جنون دشت عدم کے کوچ کا سامان کیا
جسم کے جامے کو میں نے چاک تا دامان کیا
اے جنون، تو نے عدم کے بیابان کی طرف کوچ کی تیاری کر لی؛ میں نے اپنے جسم کے لباس کو گریبان سے دامن تک چاک کر ڈالا۔
2
मुँह छुपा आब तू न मशातिन से ऐ ख़ुर्शीद रू
चर्ख़-ए-गर्दान की तरह बरसों ही सरगर्दान किया
منھ چھپا آب تو نہ مشاطن سے اے خورشید رو
چرخ گردان کی طرح برسوں ہی سرگردان کیا
اے سورج جیسے چہرے والے، اب تو سنوارنے والی کنیزوں سے اپنا منہ نہ چھپا؛ تو نے گھومتے ہوئے آسمان کی طرح برسوں مجھے سرگرداں اور بھٹکتا رکھا ہے۔
3
मर गईं तेरी जुदाई में हज़ारों हसरतें
इश्क़-ए-ग़ारतगर ने मेरे दिल को गोरिस्तान किया
مرگئیں تیری جدائی میں ہزاروں حسرتیں
عشق غارتگر نے میرے دل کو گورستان کیا
تیری جدائی میں ہزاروں آرزوئیں اور حسرتیں مر گئیں۔ تباہ کن عشق نے میرے دل کو ایک قبرستان بنا دیا۔
4
नाला-ए-जाँकाह ने पत्थर को पानी कर दिया
मुर्ग़-ओ-माही को दिल-ए-बेताब ने गिर्यान किया
نالۂ جانکاہ نے پتھر کو پانی کر دیا
مرغ و ماہی کو دل بیتاب نے گریان کیا
جان کو گھلا دینے والی آہ و زاری نے پتھر تک کو پگھلا کر پانی کر دیا؛ بے چین دل نے پرندوں اور مچھلیوں تک کو رلا دیا۔
5
जल्द नहला मुझको मेरे ख़ून से ऐ शमशीर-ए-यार
दामन-ए-दिल सालहा आलूदा-ए-इस्यान किया
جلد نہلا مجھکو میرے خون سے اے شمشیر یار
دامن دل سالہا آلودۂ عصیان کیا
اے محبوب کی تلوار، مجھے جلدی سے میرے اپنے خون میں نہلا دے، کیونکہ برسوں سے میرے دل کا دامن گناہوں کی آلودگی سے داغدار ہے۔
6
शाम से ता सुब्ह नींद आई न एकदम तुझ बग़ैर
आग नालों ने लगाई अश्क ने तूफ़ान किया
شام سے تا صبح نیند آئی نہ اکدم تجھ بغیر
آگ نالوں نے لگائی اشک نے طوفان کیا
شام سے صبح تک تیرے بغیر ایک لمحہ بھی نیند نہ آئی؛ میری آہوں اور نالوں نے آگ لگا دی اور آنسوؤں نے طوفان برپا کر دیا۔
7
ऐ फ़लक मरहून-ए-एहसान तू न तेरा मैं हुआ
शुक्र है मुझको ख़ुदा ने बे-सर-ओ-सामान किया
اے فلک مرہون احسان تو نہ تیرا میں ہوا
شکر ہے مجھکو خدا نے بے سر و سامان کیا
اے آسمان، میں نہ تیرے احسان کا مقروض ہوا اور نہ تیرا اپنا بنا۔ میں اپنے خدا کا شکرگزار ہوں کہ اس نے مجھے بے سر و سامان کر دیا۔
8
आदमी क्या वो न समझे जो सुख़न की क़द्र को
नुत्क़ ने हैवान से मुश्त-ए-ख़ाक को इंसान किया
آدمی کیا وہ نہ سمجھے جو سخن کی قدر کو
نطق نے حیوان سے مشت خاک کو انسان کیا
وہ انسان ہی کیا جو سخن اور گفتار کی قدر نہ جانے، کیونکہ قوتِ نطق ہی نے ایک مشتِ خاک کو حیوان سے اُٹھا کر انسان بنا دیا۔
9
आतिश-ए-दिलख़स्ता तेरा या इलाही कुछ न था
क़तरा-ए-नाचीज़ को दरिया-ए-बे-पायान किया
آتش دلخستہ تیرا یا الٰہی کچھ نہ تھا
قطرۂ ناچیز کو دریائے بے پایان کیا
اے خدا، میرے ٹوٹے ہوئے دل کی آگ کچھ بھی نہ تھی؛ تُو نے ایک ناچیز قطرے کو بے کنار اور لامحدود سمندر بنا دیا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
