اے جنون دشت عدم کے کوچ کا سامان کیا — خواجہ حیدر علی آتش
“O madness, you made ready the march to the desert of non-being— the robe of my body I rent, torn from collar down to hem.”
معنی
اے جنون، تو نے عدم کے بیابان کی طرف کوچ کی تیاری کر لی؛ میں نے اپنے جسم کے لباس کو گریبان سے دامن تک چاک کر ڈالا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر اپنے جنون کو یوں پکارتا ہے جیسے وہ کوئی ہمسفر ہو جس نے عدم کے بیاباں کی طرف کوچ کا سامان باندھ لیا ہو۔ جسم کو 'جامہ' یعنی لباس کہہ کر، اور اُسے گریبان سے دامن تک چاک کر دینے کا ذکر کر کے، شاعر دنیاوی وجود کو اُتار پھینکنے کی تڑپ دکھاتا ہے۔ کپڑے پھاڑنا پرانے دیوانوں اور عاشقوں کی پہچان ہے — گویا جب روح کو فنا کی جانب جانا ہے تو یہ جسم کا لباس بے کار ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
