منھ چھپا آب تو نہ مشاطن سے اے خورشید رو — خواجہ حیدر علی آتش
“Hide not your face now from the maids who dress you, O sun-faced one; like the revolving sky, for years you've kept me whirling, lost and undone.”
معنی
اے سورج جیسے چہرے والے، اب تو سنوارنے والی کنیزوں سے اپنا منہ نہ چھپا؛ تو نے گھومتے ہوئے آسمان کی طرح برسوں مجھے سرگرداں اور بھٹکتا رکھا ہے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کو خورشید رو یعنی سورج جیسے چہرے والا کہہ کر پکارتا ہے اور شکایت کرتا ہے کہ اب وہ سنگھار کرنے والی مشاطاؤں سے اپنا منھ نہ چھپائے۔ خوبصورت بات یہ ہے کہ جیسے گھومتا ہوا آسمان ہمیشہ چکر کاٹتا رہتا ہے، ویسے ہی محبوب نے برسوں تک شاعر کو بے چینی اور انتظار میں سرگرداں رکھا۔ لفظ 'سرگرداں' عشق کی اُس آوارگی اور بے قراری کو بیان کرتا ہے جو طویل جدائی سے جنم لیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
