شام سے تا صبح نیند آئی نہ اکدم تجھ بغیر — خواجہ حیدر علی آتش
“From dusk till dawn, without you, not a wink of sleep did come— My laments set the night ablaze, my tears raised up a flood.”
معنی
شام سے صبح تک تیرے بغیر ایک لمحہ بھی نیند نہ آئی؛ میری آہوں اور نالوں نے آگ لگا دی اور آنسوؤں نے طوفان برپا کر دیا۔
تشریح
اس شعر میں جدائی کی رات کی بے چینی اور تڑپ کتنی خوبصورتی سے بیان ہوئی ہے۔ شام سے صبح تک محبوب کے بغیر پل بھر کو نیند نہ آئی، اور پھر شاعر دو متضاد عناصر—آگ اور پانی—کا سہارا لیتا ہے: اس کی آہیں اور نالے آگ بن کر جلاتے ہیں، تو آنسو طوفان کی طرح سیلاب لے آتے ہیں۔ یہ اندرونی کرب کی ایسی تصویر ہے جہاں دل جلتا بھی ہے اور ڈوبتا بھی ہے—یہی جدائی کا اصل درد ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
