نالۂ جانکاہ نے پتھر کو پانی کر دیا — خواجہ حیدر علی آتش
“The soul-rending lament turned even stone to flowing water; The restless heart set bird and fish alike to weeping.”
معنی
جان کو گھلا دینے والی آہ و زاری نے پتھر تک کو پگھلا کر پانی کر دیا؛ بے چین دل نے پرندوں اور مچھلیوں تک کو رلا دیا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر اپنے درد کی شدت کو بیان کرتا ہے — اس کی جان کاٹ دینے والی آہ اتنی گہری ہے کہ سخت پتھر بھی پگھل کر پانی ہو گیا۔ اس کے بے قرار دل نے آسمان کے پرندوں اور پانی کی مچھلیوں تک کو رلا دیا، گویا سچا غم کائنات کے ہر ذرے کو چھو لیتا ہے۔ یہ اس بات کا نرم اشارہ ہے کہ جہاں انسان بے دل ہو جائیں، وہاں فطرت بھی عاشق کے دکھ میں شریک ہو جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
