آتش دلخستہ تیرا یا الٰہی کچھ نہ تھا — خواجہ حیدر علی آتش
“The fire of this broken heart, O my God, was nothing at all— Yet a worthless drop You turned into a boundless, shoreless sea.”
معنی
اے خدا، میرے ٹوٹے ہوئے دل کی آگ کچھ بھی نہ تھی؛ تُو نے ایک ناچیز قطرے کو بے کنار اور لامحدود سمندر بنا دیا۔
تشریح
یہاں شاعر عاجزی اور شکر گزاری کے ساتھ اپنے خدا سے مخاطب ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میرے دلِ خستہ کی یہ آگ، میری اپنی ہستی کچھ بھی نہ تھی — بس ایک ناچیز سا قطرہ۔ مگر تیری عنایت نے اسی بے قیمت بوند کو ایک بے کنار سمندر بنا دیا۔ قطرے اور دریا کی اس خوبصورت تصویر سے انسان کی چھوٹی ہستی اور خدا کی لامحدود رحمت کا فرق بیان ہوا ہے — گویا عشق اور درد نے ایک معمولی دل کو گہرائی اور وسعت عطا کر دی ہو۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
