اے فلک مرہون احسان تو نہ تیرا میں ہوا — خواجہ حیدر علی آتش
“O heavens, I became neither beholden to your kindness nor your own— I thank my God that He has left me destitute, with naught to call my own.”
معنی
اے آسمان، میں نہ تیرے احسان کا مقروض ہوا اور نہ تیرا اپنا بنا۔ میں اپنے خدا کا شکرگزار ہوں کہ اس نے مجھے بے سر و سامان کر دیا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر آسمان یعنی تقدیر کو للکارتے ہوئے کہتا ہے کہ نہ میں تیرے کسی احسان کا بوجھ اٹھائے ہوں اور نہ تیری غلامی میں ہوں۔ بے سر و سامانی، یعنی بے گھری اور بے سہارا ہونا، یہاں مصیبت نہیں بلکہ آزادی کا تحفہ بن کر سامنے آتا ہے۔ شاعر خدا کا شکر ادا کرتا ہے کہ جب پاس کچھ ہے ہی نہیں تو کھونے کا خوف بھی نہیں اور کسی کے آگے جھکنے کی مجبوری بھی نہیں — یہی سچی بے نیازی اور خودداری ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
