آدمی کیا وہ نہ سمجھے جو سخن کی قدر کو — خواجہ حیدر علی آتش
“Can he be called a man who knows not how to value speech? For it was speech that raised a fistful of dust above the beasts to man.”
معنی
وہ انسان ہی کیا جو سخن اور گفتار کی قدر نہ جانے، کیونکہ قوتِ نطق ہی نے ایک مشتِ خاک کو حیوان سے اُٹھا کر انسان بنا دیا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر نرمی سے ایک گہری بات کہتا ہے کہ جو انسان بات اور سخن کی قدر نہیں جانتا، وہ سچ میں انسان کہلانے کے لائق ہی نہیں۔ دیکھیے کتنی خوبصورت بات ہے — مٹھی بھر خاک سے بنے اس جسم کو حیوانوں سے بلند کر کے 'انسان' بنانے والی چیز اور کچھ نہیں، بس گویائی اور کلام کی صلاحیت ہے۔ یہاں 'نطق' یعنی بولنے کی طاقت ہی انسانیت کی اصل پہچان ٹھہرتی ہے، اور لفظ کی عزت کرنا ہی اصل انسانی وقار ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
