غزل

زخم پر چھڑکیں کہاں طفلان بے پروا نمک

زخم پر چھڑکیں کہاں طفلان بے پروا نمک
مرزا غالب· Ghazal· 9 shers· radif: नमक

اس غزل میں غالب عشق کی اذیت اور جنون کو منفرد انداز میں سراہتے ہوئے درد و الم سے لطف اندوز ہونے کا مضمون باندھتے ہیں۔ وہ پتھر پھینکنے والے بے پروا بچوں کی ستم ظریفی میں بھی مزید شدت کے آرزومند ہیں اور محبوب کے کوچے کی دھول کو اپنے دل کے زخموں کا اصل افتخار قرار دیتے ہیں۔

Source: rekhta · HI

ویڈیو · کلاسک
ویڈیو دیکھیں →
نغمہ سنیں
رسم الخط
1
ज़ख़्म पर छिड़कें कहाँ तिफ़्लान-ए-बे-परवा नमक क्या मज़ा होता अगर पत्थर में भी होता नमक
زخم پر چھڑکیں کہاں طفلان بے پروا نمک کیا مزہ ہوتا اگر پتھر میں بھی ہوتا نمک
یہ لاپروا بچے زخموں پر چھڑکنے کے لیے نمک کہاں سے لائیں؟ کتنا مزہ آتا اگر پتھروں میں بھی نمک ہوتا!
2
गर्द-ए-राह-ए-यार है सामान-ए-नाज़-ए-ज़ख़्म-ए-दिल वर्ना होता है जहाँ में किस क़दर पैदा नमक
گرد راہ یار ہے سامان ناز زخم دل ورنہ ہوتا ہے جہاں میں کس قدر پیدا نمک
محبوب کی راہ کی خاک ہی دل کے زخم کے لیے ناز اور نمک کا سامان ہے، ورنہ اس دنیا میں بھلا اتنا نمک کہاں پیدا ہوتا ہے۔
3
मुझ को अर्ज़ानी रहे तुझ को मुबारक होजियो नाला-ए-बुलबुल का दर्द और ख़ंदा-ए-गुल का नमक
مجھ کو ارزانی رہے تجھ کو مبارک ہوجیو نالۂ بلبل کا درد اور خندۂ گل کا نمک
بلبل کی آہ و زاری کا درد مجھے کثرت سے نصیب رہے، اور پھول کی مسکراہٹ کا نمک تجھے مبارک ہو۔
4
शोर-ए-जौलाँ था कनार-ए-बहर पर किस का कि आज गर्द-ए-साहिल है ब-ज़ख़्म-ए-मौज-ए-दरिया नमक
شور جولاں تھا کنار بحر پر کس کا کہ آج گرد ساحل ہے بہ زخم موجۂ دریا نمک
سمندر کے کنارے وہ کس کی تیز سواری کی دھوم تھی کہ آج بھی ساحل کی گرد دریا کی لہر کے زخم پر نمک کا کام کر رہی ہے؟
5
दाद देता है मिरे ज़ख़्म-ए-जिगर की वाह वाह याद करता है मुझे देखे है वो जिस जा नमक
داد دیتا ہے مرے زخم جگر کی واہ واہ یاد کرتا ہے مجھے دیکھے ہے وہ جس جا نمک
وہ 'واہ واہ' کہہ کر میرے زخمِ جگر کی داد دیتا ہے، اور جہاں کہیں بھی نمک دیکھتا ہے مجھے یاد کرتا ہے۔
6
छोड़ कर जाना तन-ए-मजरूह-ए-आशिक़ हैफ़ है दिल तलब करता है ज़ख़्म और माँगे हैं आ'ज़ा नमक
چھوڑ کر جانا تن مجروح عاشق حیف ہے دل طلب کرتا ہے زخم اور مانگے ہیں اعضا نمک
عاشق کے زخمی جسم کو اس طرح چھوڑ جانا افسوس کی بات ہے، کیونکہ دل مزید زخموں کا طلب گار ہے اور جسم کا ہر عضو نمک مانگ رہا ہے۔
7
ग़ैर की मिन्नत न खींचूँगा पय-ए-तौफ़ीर-ए-दर्द ज़ख़्म मिस्ल-ए-ख़ंदा-ए-क़ातिल है सर-ता-पा नमक
غیر کی منت نہ کھینچوں گا پے توفیر درد زخم مثل خندۂ قاتل ہے سر تا پا نمک
میں اپنا درد بڑھانے کے لیے کسی غیر کی منت سماجت نہیں کروں گا؛ میرا زخم تو قاتل کی مسکراہٹ کی طرح سر سے لے کر پاؤں تک خود ہی نمک سے بھرا ہوا ہے۔
8
याद हैं 'ग़ालिब' तुझे वो दिन कि वज्द-ए-ज़ौक़ में ज़ख़्म से गिरता तो मैं पलकों से चुनता था नमक
یاد ہیں غالبؔ تجھے وہ دن کہ وجد ذوق میں زخم سے گرتا تو میں پلکوں سے چنتا تھا نمک
اے غالب! کیا تجھے وہ دن یاد ہیں جب ذوق و جنون کی کیفیت میں، اگر زخم سے نمک گرتا تھا تو میں اسے اپنی پلکوں سے چن لیا کرتا تھا؟
9
इस अमल में ऐश की लज़्ज़त नहीं मिलती 'असद' ज़ोर निस्बत मय से रखता है अज़ारा का नमक
اس عمل میں عیش کی لذت نہیں ملتی اسدؔ زور نسبت مے سے رکھتا ہے اضارا کا نمک
اے اسد! اس عمل میں عیش و مسرت کی کوئی لذت حاصل نہیں ہوتی، اگرچہ اضارا کے نمک کا شراب کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.