“The dust of the beloved's path is the proud adornment of the wounded heart; otherwise, how much salt could this world ever produce?”
محبوب کی راہ کی خاک ہی دل کے زخم کے لیے ناز اور نمک کا سامان ہے، ورنہ اس دنیا میں بھلا اتنا نمک کہاں پیدا ہوتا ہے۔
غالب اس شعر میں زخم پر نمک چھڑکنے کے روایتی خیال کو ایک نیا اور نایاب حسن عطا کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ محبوب کے راستے کی خاک ہی دراصل عاشق کے دل کے زخموں کا فخر اور سنگھار ہے، کیونکہ وہی ان کے لیے نمک کا کام کرتی ہے۔ اگر محبوب کے قدموں کی یہ خاک نہ ہوتی تو دنیا میں اتنا نمک بھلا کہاں پیدا ہو سکتا تھا جو دل کے ان گنت زخموں کے کام آتا؟ یعنی معشوق کے در سے ملا ہوا درد اور جلن بھی عاشق کے لیے باعثِ عزت ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
