“Do you remember those days, Ghalib, when in the ecstasy of passion, / If salt fell from the wound, I would gather it with my eyelashes?”
اے غالب! کیا تجھے وہ دن یاد ہیں جب ذوق و جنون کی کیفیت میں، اگر زخم سے نمک گرتا تھا تو میں اسے اپنی پلکوں سے چن لیا کرتا تھا؟
غالب اپنے ماضی کے اس سنہرے دور کو یاد کر رہے ہیں جب وہ عشق و جنون کی اس کیفیت میں تھے جہاں محبوب کا دیا ہوا درد ہی سب سے بڑی لذت بن چکا تھا۔ عام طور پر زخم پر نمک کا لگنا جان لیوا تکلیف دیتا ہے، مگر دیوانگی کے عالم میں اگر نمک کا ایک دانہ بھی زخم سے نیچے گرتا تو عاشق اسے پلکوں سے چن کر واپس زخم پر رکھ لیتا تھا۔ یہ شعر محبت کے اس انوکھے نشے کی عکاسی کرتا ہے جس میں تڑپنا اور گھلنا بوجھ نہیں بلکہ روح کی معراج بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
