“I shall not beg of another to multiply my pain; / Like the slayer's mocking smile, my wound is all salt from head to toe.”
میں اپنا درد بڑھانے کے لیے کسی غیر کی منت سماجت نہیں کروں گا؛ میرا زخم تو قاتل کی مسکراہٹ کی طرح سر سے لے کر پاؤں تک خود ہی نمک سے بھرا ہوا ہے۔
غالبؔ اس شعر میں عشق کی خودداری کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجھے اپنے درد کی شدت بڑھانے کے لیے کسی غیر کے احسان کی کوئی حاجت نہیں۔ انہوں نے قاتل کی طنزیہ مسکراہٹ کے چمکتے سفید دانتوں کو نمک سے تشبیہ دی ہے، جس نے ان کے زخم کو سر سے پاؤں تک نمکین یعنی بے چین کر رکھا ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ محبوب کی وہ ایک ظالمانہ ہنسی ہی دل کو جلانے کے لیے اتنی کافی ہے کہ اب کسی دوسرے ستم گر کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
