“To leave behind the lover's wounded frame, alas, what a pity; the heart still longs for wounds, while every limb begs for salt.”
عاشق کے زخمی جسم کو اس طرح چھوڑ جانا افسوس کی بات ہے، کیونکہ دل مزید زخموں کا طلب گار ہے اور جسم کا ہر عضو نمک مانگ رہا ہے۔
اس شعر میں عشق کی وہ پُرتاثیر کیفیت بیان کی گئی ہے جہاں عاشق درد سے چھٹکارا پانے کے بجائے مزید تکلیف کا متلاشی ہوتا ہے۔ محبوب کا اس طرح زخمی عاشق کو ادھورا چھوڑ کر چلے جانا بڑا المیہ ہے، کیونکہ دل ابھی اور زخموں کی تمنا کر رہا ہے۔ عاشق کے اعضا گھاؤ پر نمک پاشی کے طلب گار ہیں، گویا محبوب کی دی ہوئی اذیت ہی اس کے لیے زندگی اور تسکین کی معراج بن چکی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
