“Where could these carefree children find salt to sprinkle on my wound? What sheer delight it would have been had stones contained salt too!”
یہ لاپروا بچے زخموں پر چھڑکنے کے لیے نمک کہاں سے لائیں؟ کتنا مزہ آتا اگر پتھروں میں بھی نمک ہوتا!
غالب اس شعر میں جنونِ عشق اور لذتِ درد کی ایسی تصویر کھینچتے ہیں جو بیک وقت حیران بھی کرتی ہے اور مسحور بھی۔ روایتی علامت نگاری کے مطابق جب گلی کے بے پروا بچے دیوانے عاشق پر پتھر برساتے ہیں تو وہ زخمی تو ہوتا ہے، مگر شکوہ کرتا ہے کہ کاش ان پتھروں کی ساخت میں ہی نمک ہوتا! اگر ایسا ہوتا تو زخم لگنے کے ساتھ ہی اس پر نمک پاشی بھی ہو جاتی اور تڑپنے کا لطف دو آتشہ ہو جاتا۔ یہ عاشق کے اس انوکھے پن کو ظاہر کرتا ہے جہاں درد اور زخم ہی اس کا اصل سرمایہ بن جاتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
