“May the pain of the nightingale's lament be freely mine, and blessed unto you be the salt of the rose's smile.”
بلبل کی آہ و زاری کا درد مجھے کثرت سے نصیب رہے، اور پھول کی مسکراہٹ کا نمک تجھے مبارک ہو۔
اس خوبصورت شعر میں شاعر محبت کی بے غرض قربانی کو پیش کر رہا ہے، جہاں وہ سارے درد کو اپنے مقدر میں قبول کرتا ہے اور محبوب کو دلکشی اور مسکراہٹیں بخش دیتا ہے۔ بلبل کی فریاد میں چھپا سارا سوز و گداز وہ اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے، جبکہ پھول کی کھلتی ہوئی مسکراہٹ اور اس کا بانکپن محبوب کو مبارک کہتا ہے۔ یہ دراصل عشق کا وہ بلند مقام ہے جہاں عاشق اپنے زخموں کو سینے سے لگا کر بھی اپنے محبوب کے لیے فقط شادمانی اور نکھار کا طلبگار ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
