داد دیتا ہے مرے زخم جگر کی واہ واہ یاد کرتا ہے مجھے دیکھے ہے وہ جس جا نمک

“He applauds the deep wound of my heart with cries of 'Bravo! Ah!' / And remembers me wherever his eyes chance to fall upon salt.”

— مرزا غالب
معنی

وہ 'واہ واہ' کہہ کر میرے زخمِ جگر کی داد دیتا ہے، اور جہاں کہیں بھی نمک دیکھتا ہے مجھے یاد کرتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں میر نے 'زخم پر نمک چھڑکنے' کے روایتی مضمون کو کمال کے طنز اور گہرے درد کے ساتھ برتا ہے۔ محبوب کو عاشق کے دل کو چھلنی کرنے کی ایسی عادت ہو چکی ہے کہ وہ جہاں بھی نمک دیکھتا ہے، اسے فوراً عاشق کے تڑپتے ہوئے زخم یاد آ جاتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ محبوب کا یہ یاد کرنا کسی محبت یا ہمدردی کی خاطر نہیں، بلکہ عاشق کی تکلیف اور بربادی پر بے رحمی سے داد دینے کی ایک ادا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.