شور جولاں تھا کنار بحر پر کس کا کہ آج گرد ساحل ہے بہ زخم موجۂ دریا نمک

“Whose fiery gallop stirred the ocean shore, that even today, the dust along the coast acts as salt upon the sea-wave's wound?”

— مرزا غالب
معنی

سمندر کے کنارے وہ کس کی تیز سواری کی دھوم تھی کہ آج بھی ساحل کی گرد دریا کی لہر کے زخم پر نمک کا کام کر رہی ہے؟

تشریح

غالب اس شعر میں کمال کی تصویر کشی کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ ساحل پر وہ کون سا پُرجوش اور صاحبِ جلال شہسوار گزرا تھا جس کی تڑپ میں سمندر آج تک بے چین ہے۔ ساحل سے سر ٹکراتی ہوئی لہریں دراصل دریا کے سینے کے زخم ہیں، اور کنارے کی گرد ان پر نمک کی طرح چھڑک کر اس کی بے قراری بڑھا دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا لاجواب اندازِ بیان ہے جس میں کسی یادگار ہستی کے فراق میں پوری فطرت کو ماتم کناں دکھایا گیا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.