غزل
وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا
وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا
مرزا غالب کی یہ غزل پوشیدہ غم کے ادراک، نفاستِ فہم اور خود شناسی کے احوال کو خوبصورتی سے پیش کرتی ہے۔ شاعر بیان کرتا ہے کہ کس طرح پیشانی کی شکن سے چھپا ہوا دکھ عیاں ہو جاتا ہے اور حقیقت کا ادراک انسان کو جنون اور اضطراب میں مبتلا کر دیتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
वो मिरी चीन-ए-जबीं से ग़म-ए-पिन्हाँ समझा
राज़-ए-मक्तूब ब-बे-रब्ती-ए-उनवाँ समझा
وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا
راز مکتوب بہ بے ربطی عنواں سمجھا
اس نے میری پیشانی کی شکنوں سے میرا چھپا ہوا غم جان لیا، بالکل اسی طرح جیسے خط کے بے ربط عنوان سے اس کے اندر کا راز سمجھ لیا جاتا ہے۔
2
यक अलिफ़ बेश नहीं सैक़ल-ए-आईना हनूज़
चाक करता हूँ मैं जब से कि गरेबाँ समझा
یک الف بیش نہیں صیقل آئینہ ہنوز
چاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا
آئینے کی جلا کی لکیر اب بھی ایک الف سے زیادہ نہیں ہے، حالانکہ جب سے میں نے گریبان کو جانا ہے تب سے مسلسل اسے چاک کرتا رہا ہوں۔
3
शरह-ए-असबाब-ए-गिरफ़्तारी-ए-ख़ातिर मत पूछ
इस क़दर तंग हुआ दिल कि मैं ज़िंदाँ समझा
شرح اسباب گرفتاری خاطر مت پوچھ
اس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا
میرے دل کے قید ہونے کے اسباب کی تفصیل مت پوچھو، دل اس قدر تنگ ہو گیا کہ میں نے اسے ہی قید خانہ سمجھ لیا۔
4
बद-गुमानी ने न चाहा उसे सरगर्म-ए-ख़िराम
रुख़ पे हर क़तरा अरक़ दीदा-ए-हैराँ समझा
بد گمانی نے نہ چاہا اسے سرگرم خرام
رخ پہ ہر قطرہ عرق دیدۂ حیراں سمجھا
بدگمانی نے محبوب کو کھل کر اور ناز کے ساتھ چلنے نہ دیا، کیونکہ اس نے چہرے پر پسینے کے ہر قطرے کو گھورتی ہوئی حیران آنکھ سمجھ لیا۔
5
इज्ज़ से अपने ये जाना कि वो बद-ख़ू होगा
नब्ज़-ए-ख़स से तपिश-ए-शोला-ए-सोज़ाँ समझा
عجز سے اپنے یہ جانا کہ وہ بد خو ہوگا
نبض خس سے تپش شعلۂ سوزاں سمجھا
میں نے اپنی عاجزی اور لاچاری سے یہ اندازہ لگایا کہ وہ بد مزاج ہوگا، بالکل ویسے ہی جیسے سوکھے تنکے کی نبض سے دہکتے شعلے کی تپش کو سمجھا جاتا ہے۔
6
सफ़र-ए-इश्क़ में की ज़ोफ़ ने राहत-तलबी
हर क़दम साए को मैं अपने शबिस्ताँ समझा
سفر عشق میں کی ضعف نے راحت طلبی
ہر قدم سائے کو میں اپنے شبستاں سمجھا
عشق کے سفر میں کمزوری نے آرام کی ایسی طلب پیدا کی کہ میں ہر قدم پر اپنے ہی سائے کو خواب گاہ سمجھ بیٹھا۔
7
था गुरेज़ाँ मिज़ा-ए-यार से दिल ता दम-ए-मर्ग
दफ़-ए-पैकान-ए-क़ज़ा इस क़दर आसाँ समझा
تھا گریزاں مژۂ یار سے دل تا دم مرگ
دفع پیکان قضا اس قدر آساں سمجھا
دل مرتے دم تک محبوب کی پلکوں کے تیروں سے بھاگتا رہا، اس نے قضا کے تیر کو ٹالنا اتنا آسان سمجھ لیا تھا۔
8
दिल दिया जान के क्यूँ उस को वफ़ादार 'असद'
ग़लती की कि जो काफ़िर को मुसलमाँ समझा
دل دیا جان کے کیوں اس کو وفادار اسدؔ
غلطی کی کہ جو کافر کو مسلماں سمجھا
اے اسد، تم نے اسے وفادار سمجھ کر اپنا دل کیوں دے دیا؟ تم نے ایک کافر کو مسلمان سمجھ کر بہت بڑی غلطی کی۔
9
हम ने वहशत-कदा-ए-बज़्म-ए-जहाँ में जूँ शम्अ'
शो'ला-ए-इश्क़ को अपना सर-ओ-सामाँ समझा
ہم نے وحشت کدۂ بزم جہاں میں جوں شمع
شعلۂ عشق کو اپنا سر و ساماں سمجھا
ہم نے اس دنیا کی ویران محفل میں موم بتی کی طرح عشق کی آگ ہی کو اپنا کل اثاثہ اور سب کچھ جانا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
