دل دیا جان کے کیوں اس کو وفادار اسدؔ — مرزا غالب
“Why did you surrender your heart, Asad, believing she would be true? You erred so deeply, mistaking an infidel for a faithful believer.”
معنی
اے اسد، تم نے اسے وفادار سمجھ کر اپنا دل کیوں دے دیا؟ تم نے ایک کافر کو مسلمان سمجھ کر بہت بڑی غلطی کی۔
تشریح
اس شعر میں غالب خود کو ملامت کرتے ہوئے اپنی سادہ لوحی پر گہرا طنز کر رہے ہیں کہ انہوں نے محبوب کو وفادار جان کر اپنا دل کیوں سونپا۔ اردو شاعری میں محبوب کی سنگ دلی اور بے رخی کی نسبت اسے 'کافر' کہا جاتا ہے، جب کہ یہاں 'مسلمان' وفا اور عہد نبھانے والے کی علامت ہے۔ وہ دکھی دل سے مانتے ہیں کہ جس کی فطرت میں ہی وفا نہ ہو، اس سے وفا کی امید باندھنا ان کی اپنی سب سے بڑی بھول تھی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
