عجز سے اپنے یہ جانا کہ وہ بد خو ہوگا — مرزا غالب
“From my own helpless meekness, I deduced their cruel design; in the faint pulse of dry straw, the searing fire's heat I divined.”
معنی
میں نے اپنی عاجزی اور لاچاری سے یہ اندازہ لگایا کہ وہ بد مزاج ہوگا، بالکل ویسے ہی جیسے سوکھے تنکے کی نبض سے دہکتے شعلے کی تپش کو سمجھا جاتا ہے۔
تشریح
غالب اس شعر میں اپنی بے بسی اور محبوب کی ستم ظریفی کا تعلق ایک لاجواب تمثیل سے واضح کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جیسے سوکھے تنکے کی نحیف اور کانپتی نبض کو دیکھ کر بھڑکتے ہوئے شعلے کی تپش کا اندازہ ہو جاتا ہے، بالکل اسی طرح میری عاجزی اور لاچاری بتا رہی ہے کہ محبوب کس قدر بے درد اور سخت مزاج ہے۔ یہ شعر اس گہرے احساس کو جگاتا ہے کہ عاشق کا مٹ جانا ہی دراصل عشق کی جلانے والی آگ کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
