شرح اسباب گرفتاری خاطر مت پوچھ — مرزا غالب
“Ask not the causes for the captivity of my heart; so constricted grew this breast, I mistook it for a prison.”
معنی
میرے دل کے قید ہونے کے اسباب کی تفصیل مت پوچھو، دل اس قدر تنگ ہو گیا کہ میں نے اسے ہی قید خانہ سمجھ لیا۔
تشریح
شاعر یہاں دل کی بے پناہ گھٹن اور اداسی کی کیفیت کو بڑی خوبصورتی سے بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے یہ مت پوچھو کہ میری دل گرفتگی کی کیا وجوہات ہیں، کیونکہ دکھوں کے ہجوم سے دل اس قدر تنگ اور بوجھل ہو گیا کہ مجھے اپنا ہی سینہ ایک قید خانہ معلوم ہونے لگا۔ یعنی جب انسان کا درد حد سے بڑھ جائے تو اسے قید کرنے کے لیے کسی بیرونی زنداں کی ضرورت نہیں رہتی، اس کا اپنا دل ہی اس کی زنجیر بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
