ہم نے وحشت کدۂ بزم جہاں میں جوں شمع — مرزا غالب

ہم نے وحشت کدۂ بزم جہاں میں جوں شمع شعلۂ عشق کو اپنا سر و ساماں سمجھا

“Like a candle in the wild assembly of this world, I deemed the flame of love to be my all, my only wealth.”

— مرزا غالب

معنی

ہم نے اس دنیا کی ویران محفل میں موم بتی کی طرح عشق کی آگ ہی کو اپنا کل اثاثہ اور سب کچھ جانا۔

تشریح

اس دنیا کی پُرہنگامہ اور وحشت ناک محفل میں شاعر نے خود کو ایک تنہا شمع کی مانند پایا ہے۔ جس طرح شمع کے پاس اپنے وجود کو پگھلانے والی لو کے سوا کوئی مال و متاع نہیں ہوتا، اسی طرح عاشق نے بھی عشق کی آگ ہی کو اپنا کل سرمایہ اور کل کائنات سمجھ لیا ہے۔ یہ شعر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ سچی محبت میں خود کو مٹا دینا ہی دراصل عاشق کا سب سے بڑا حاصل اور اصل پہچان ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.