بد گمانی نے نہ چاہا اسے سرگرم خرام — مرزا غالب

بد گمانی نے نہ چاہا اسے سرگرم خرام رخ پہ ہر قطرہ عرق دیدۂ حیراں سمجھا

“Dark suspicion would not let her stride out boldly in her grace; it took each drop of sweat to be an astonished eye upon her face.”

— مرزا غالب

معنی

بدگمانی نے محبوب کو کھل کر اور ناز کے ساتھ چلنے نہ دیا، کیونکہ اس نے چہرے پر پسینے کے ہر قطرے کو گھورتی ہوئی حیران آنکھ سمجھ لیا۔

تشریح

غالب نے اس شعر میں بدگمانی اور محبت کے اضطراب کو ایک لاجواب تمثیل کے ذریعے پیش کیا ہے۔ محبوب جب ناز وانداز سے خراماں خراماں چلنا چاہتا ہے، تو عاشق کی غیرت اور بدگمانی مانع ہوتی ہے کہ اس کے چہرے پر چمکتا پسینے کا ہر قطرہ دراصل کوئی حیران آنکھ ہے جو اسے تک رہی ہے۔ یہ عاشقانہ وہم کی وہ نازک کیفیت ہے جہاں انسان اپنے محبوب کے حسن پر زمانے کے ہر تاثر کو ایک نظرِ بد گمان سمجھنے لگتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.