یک الف بیش نہیں صیقل آئینہ ہنوز — مرزا غالب

یک الف بیش نہیں صیقل آئینہ ہنوز چاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا

“The mirror's polish is still no more than a single alif / Ever since I learned what a collar was, I have torn it apart.”

— مرزا غالب

معنی

آئینے کی جلا کی لکیر اب بھی ایک الف سے زیادہ نہیں ہے، حالانکہ جب سے میں نے گریبان کو جانا ہے تب سے مسلسل اسے چاک کرتا رہا ہوں۔

تشریح

مرزا غالب اس شعر میں عشق کے جنون اور خود آگاہی کو کمال خوبصورتی سے باندھتے ہیں۔ گریبان کا چاک ہونا، جو دیوانگی کی سب سے بڑی علامت ہے، حرفِ ’الف‘ کی مانند ایک سیدھی لکیر بناتا ہے جیسے زنگ آلود آئینے کو چمکانے کے لیے صیقل گر پہلی خراش لگاتا ہے۔ شاعر کہنا چاہتے ہیں کہ ہوش سنبھالتے ہی میں نے خود کو عشق میں مٹا دیا، مگر اتنی ریاضت اور درد کے بعد بھی دل کا آئینہ ابھی صرف پہلے حرف ’الف‘ جتنا ہی چمک پایا ہے، یعنی عشق کی راہ میں ہم ابھی ابتدا پر ہی کھڑے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.