سفر عشق میں کی ضعف نے راحت طلبی — مرزا غالب

سفر عشق میں کی ضعف نے راحت طلبی ہر قدم سائے کو میں اپنے شبستاں سمجھا

“In love's long journey, weakness yearned for sweet repose; at every step, I mistook my own shadow for a bedchamber.”

— مرزا غالب

معنی

عشق کے سفر میں کمزوری نے آرام کی ایسی طلب پیدا کی کہ میں ہر قدم پر اپنے ہی سائے کو خواب گاہ سمجھ بیٹھا۔

تشریح

عشق کا راستہ اتنا کٹھن اور جاں گسل ہے کہ مسافر کی ہمت اور طاقت بالکل جواب دے چکی ہے۔ تھکن اور ناتوانی کی شدت کا یہ عالم ہے کہ وہ آرام کی تلاش میں زمین پر پڑنے والے اپنے ہی سائے کو کوئی پرسکون خواب گاہ سمجھ بیٹھتا ہے۔ یہ شعر محبت کی مشقت اور عاشق کی اس بے بسی کو دکھاتا ہے جہاں تھکا ہوا دل چھلاووں میں بھی پناہ تلاش کرتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.