تھا گریزاں مژۂ یار سے دل تا دم مرگ — مرزا غالب
“Till its dying breath, the heart kept fleeing the beloved's piercing lashes—did it deem warding off the fatal arrow of destiny so easy?”
معنی
دل مرتے دم تک محبوب کی پلکوں کے تیروں سے بھاگتا رہا، اس نے قضا کے تیر کو ٹالنا اتنا آسان سمجھ لیا تھا۔
تشریح
شاعر یہاں دل کی اس معصومانہ جدوجہد پر ایک دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ بات کر رہے ہیں، جو آخری سانس تک محبوب کی پلکوں کے وار سے بچنے کے لیے بھاگتا رہا۔ روایتی شاعری میں مژۂ یار یعنی محبوب کی پلکیں تیر کا درجہ رکھتی ہیں، اور یہاں ان کا سامنا تقدیر کے تیر (پیکانِ قضا) سے کیا گیا ہے۔ دل کی نادانی دیکھیے کہ وہ موت کے وقت تک یہی سمجھتا رہا کہ اس وار کو ٹالنا آسان ہے، حالانکہ محبوب کے عشق اور تقدیر کے لکھے سے بھاگنا ناممکن تھا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
