Sukhan AI
غزل

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
مرزا غالب· Ghazal· 16 shers· radif: गईं

یہ غزل حسن اور حیات کی عارضی نوعیت پر گہرا غور کرتی ہے۔ یہ اس بات کا ماتم کرتی ہے کہ کتنی ہی بے مثال صورتیں اور پُر رونق تجربات وقت کے ساتھ گم ہو جاتے ہیں، کچھ خاک میں پنہاں ہو جاتے ہیں اور کچھ طاقِ نسیان کی زینت بن کر دھندلا جاتے ہیں، جن میں سے بہت کم ہی کبھی ظاہر ہو پاتے ہیں۔ یہ نظم نقصان اور تمام وجود کے فانی ہونے کا ایک رقت انگیز احساس دلاتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
सब कहाँ कुछ लाला-ओ-गुल में नुमायाँ हो गईं ख़ाक में क्या सूरतें होंगी कि पिन्हाँ हो गईं
سب کی سب کہاں ظاہر ہوتی ہیں؟ کچھ ہی لالہ اور گل میں ظاہر ہوئیں۔ خاک میں نہ جانے کتنی صورتیں ایسی ہوں گی جو پوشیدہ رہ گئیں۔
2
याद थीं हम को भी रंगा-रंग बज़्म-आराईयाँ लेकिन अब नक़्श-ओ-निगार-ए-ताक़-ए-निस्याँ हो गईं
ہمیں بھی بہت سی رنگین اور سجی ہوئی محفلیں یاد تھیں، لیکن اب وہ فراموشی کی محراب پر بنے نقش و نگار جیسی ہو گئی ہیں۔
3
थीं बनात-उन-नाश-ए-गर्दुं दिन को पर्दे में निहाँ शब को उन के जी में क्या आई कि उर्यां हो गईं
دن کو بنات-ان-نعش-اے-گردوں (ستارے) پردے میں چھپے ہوئے تھے۔ رات کو ان کے دل میں کیا بات آئی کہ وہ ظاہر ہو گئے۔
4
क़ैद में याक़ूब ने ली गो न यूसुफ़ की ख़बर लेकिन आँखें रौज़न-ए-दीवार-ए-ज़िंदाँ हो गईं
یوسف کے قید میں ہونے کے باوجود یعقوب کو اس کی کوئی خبر نہ ملی، لیکن یعقوب کی آنکھیں قید خانے کی دیوار کا روشن دان بن گئیں۔
5
सब रक़ीबों से हों ना-ख़ुश पर ज़नान-ए-मिस्र से है ज़ुलेख़ा ख़ुश कि महव-ए-माह-ए-कनआँ हो गईं
زلیخا اپنے تمام رقیبوں سے ناخوش ہے، مگر مصر کی عورتوں سے خوش ہے کہ وہ سب ماہِ کنعاں (یوسف) میں محو ہو گئیں۔
6
जू-ए-ख़ूँ आँखों से बहने दो कि है शाम-ए-फ़िराक़ मैं ये समझूँगा कि शमएँ दो फ़रोज़ाँ हो गईं
اپنی آنکھوں سے خون کی ندیاں بہنے دو، کیونکہ یہ جدائی کی رات ہے۔ میں یہ سمجھوں گا کہ دو شمعیں روشن ہو گئی ہیں۔
7
इन परी-ज़ादों से लेंगे ख़ुल्द में हम इंतिक़ाम क़ुदरत-ए-हक़ से यही हूरें अगर वाँ हो गईं
ہم ان پری زادوں سے جنت میں انتقام لیں گے، اگر خدا کی قدرت سے یہی حوریں وہاں موجود ہو گئیں۔
8
नींद उस की है दिमाग़ उस का है रातें उस की हैं तेरी ज़ुल्फ़ें जिस के बाज़ू पर परेशाँ हो गईं
نیند اس کی ہے، دماغ اس کا ہے اور راتیں اس کی ہیں، جس کے بازو پر تمہاری زلفیں پریشان ہو گئیں۔
9
मैं चमन में क्या गया गोया दबिस्ताँ खुल गया बुलबुलें सुन कर मिरे नाले ग़ज़ल-ख़्वाँ हो गईं
میں جیسے ہی چمن میں گیا، ایسا لگا جیسے کوئی مدرسہ کھل گیا ہو۔ بلبلیں میری آہ و زاری سُن کر غزلیں گانے لگیں۔
10
वो निगाहें क्यूँ हुई जाती हैं या-रब दिल के पार जो मिरी कोताही-ए-क़िस्मत से मिज़्गाँ हो गईं
اے رب، وہ نگاہیں میرے دل کے پار کیوں ہوتی جا رہی ہیں، جو میری قسمت کی کوتاہی کی وجہ سے صرف مژگاں بن گئی ہیں۔
11
बस-कि रोका मैं ने और सीने में उभरीं पै-ब-पै मेरी आहें बख़िया-ए-चाक-ए-गरेबाँ हो गईं
اگرچہ میں نے انہیں روکنے کی کوشش کی، پھر بھی میری آہیں میرے سینے سے لگاتار، ایک کے بعد ایک ابھرتی رہیں۔ میری یہ آہیں میرے پھٹے ہوئے گریبان کے ٹانکے بن گئیں۔
12
वाँ गया भी मैं तो उन की गालियों का क्या जवाब याद थीं जितनी दुआएँ सर्फ़-ए-दरबाँ हो गईं
اگر میں وہاں گیا بھی، تو اُن کی گالیوں کا کیا جواب دوں گا؟ مجھے جتنی بھی دعائیں یاد تھیں، وہ سب دربان پر صرف ہو گئیں۔
13
जाँ-फ़िज़ा है बादा जिस के हाथ में जाम आ गया सब लकीरें हाथ की गोया रग-ए-जाँ हो गईं
جس کے ہاتھ میں جام آگیا، اس کے لیے شراب جان فزا ہے۔ گویا ہاتھ کی سب لکیریں جان کی رگیں بن گئی ہیں۔
14
हम मुवह्हिद हैं हमारा केश है तर्क-ए-रुसूम मिल्लतें जब मिट गईं अजज़ा-ए-ईमाँ हो गईं
ہم ایک خدا کو ماننے والے ہیں، اور ہمارا مسلک رسم و رواج کو ترک کرنا ہے۔ جب مختلف ملتیں اور مذاہب ختم ہو گئے، تو وہ سچے ایمان کے اجزاء بن گئے۔
15
रंज से ख़ूगर हुआ इंसाँ तो मिट जाता है रंज मुश्किलें मुझ पर पड़ीं इतनी कि आसाँ हो गईं
جب انسان رنج کا خوگر ہو جاتا ہے تو رنج خود مٹ جاتا ہے۔ مجھ پر اتنی مشکلیں پڑیں کہ وہ آسان ہو گئیں۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.