یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں
لیکن اب نقش و نگار طاق نسیاں ہو گئیں
“We too recalled those vibrant, varied gatherings,But now they've become mere designs on oblivion's arch.”
— مرزا غالب
معنی
ہمیں بھی بہت سی رنگین اور سجی ہوئی محفلیں یاد تھیں، لیکن اب وہ فراموشی کی محراب پر بنے نقش و نگار جیسی ہو گئی ہیں۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
