जाँ-फ़िज़ा है बादा जिस के हाथ में जाम आ गया
सब लकीरें हाथ की गोया रग-ए-जाँ हो गईं
“Life-giving is the wine for him who holds the cup,As if all lines upon his palm have turned to veins of life.”
— مرزا غالب
معنی
جس کے ہاتھ میں جام آگیا، اس کے لیے شراب جان فزا ہے۔ گویا ہاتھ کی سب لکیریں جان کی رگیں بن گئی ہیں۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
