बस-कि रोका मैं ने और सीने में उभरीं पै-ब-पै
मेरी आहें बख़िया-ए-चाक-ए-गरेबाँ हो गईं
“Though I restrained them, they rose continuously within my breast;My sighs became the stitches for my torn collar.”
— مرزا غالب
معنی
اگرچہ میں نے انہیں روکنے کی کوشش کی، پھر بھی میری آہیں میرے سینے سے لگاتار، ایک کے بعد ایک ابھرتی رہیں۔ میری یہ آہیں میرے پھٹے ہوئے گریبان کے ٹانکے بن گئیں۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
