غزل

رہا گر کوئی تا قیامت سلامت

رہا گر کوئی تا قیامت سلامت
مرزا غالب· Ghazal· 10 shers

اس غزل میں زندگی کی بے ثباتی اور موت کی ناگزیریت کو ایک فلسفیانہ اور طنزیہ انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ اگر کوئی روزِ قیامت تک بھی سلامت رہے، تب بھی اسے بالآخر فنا ہونا ہے۔ اس کے ساتھ ہی شاعر نے عشق کے جانکاہ مصائب، درد و الم اور دل کی بے قراری کو انتہائی پرتاثیر پیرائے میں اجاگر کیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
रहा गर कोई ता-क़यामत सलामत फिर इक रोज़ मरना है हज़रत-सलामत
رہا گر کوئی تا قیامت سلامت پھر اک روز مرنا ہے حضرت سلامت
اگر کوئی قیامت تک بھی صحیح سلامت بچا رہے، تب بھی اے محترم، آخرکار ایک دن مرنا ہی ہے۔
2
जिगर को मिरे इश्क़-ए-खूँ-नाबा-मशरब लिखे है ख़ुदावंद-ए-नेमत सलामत
جگر کو مرے عشق خوں نابہ مشرب لکھے ہے خداوند نعمت سلامت
خون پینے والا عشق میرے جگر کو اپنا محسن اور رزق دینے والا آقا قرار دیتے ہوئے اس کی سلامتی کی دعا لکھتا ہے۔
3
अलर्रग़्म-ए-दुश्मन शहीद-ए-वफ़ा हूँ मुबारक मुबारक सलामत सलामत
علی الرغم دشمن شہید وفا ہوں مبارک مبارک سلامت سلامت
میں دشمن کی مرضی کے خلاف وفا کی راہ میں شہید ہو گیا ہوں، اس لیے مجھے مبارک ہو اور یہ رتبہ ہمیشہ سلامت رہے۔
4
नहीं गर सर-ओ-बर्ग-ए-इदराक-ए-मानी तमाशा-ए-नैरंग-ए-सूरत सलामत
نہیں گر سر و برگ ادراک معنی تماشاۓ نیرنگ صورت سلامت
اگر حقیقت اور معنی کو سمجھنے کی صلاحیت یا سامان نہیں ہے، تو ظاہری صورتوں کا رنگ برنگا تماشا ہی سلامت رہے۔
5
दो-आलम की हस्ती पे ख़त्त-ए-फ़ना खींच दिल-ओ-दस्त-ए-अरबाब-ए-हिम्मत सलामत
دو عالم کی ہستی پہ خط فنا کھینچ دل و دست ارباب ہمت سلامت
دونوں جہانوں کے وجود پر فنا کا خط کھینچ دو، بس باہمت اور سخی لوگوں کا دل اور ہاتھ سلامت رہے۔
6
नहीं गर ब-काम-ए-दिल-ए-ख़स्ता गर्दूं जिगर-ख़ाई-ए-जोश-ए-हसरत सलामत
نہیں گر بہ کام دل خستہ گردوں جگر خائی جوش حسرت سلامت
اگر گردشِ زمانہ میرے رنجیدہ دل کی خواہش کے مطابق نہیں چلتی تو کوئی پروا نہیں، نامکمل حسرتوں کے جوش میں جگر کا لہو ہونا ہی سلامت رہے۔
7
न औरों की सुनता न कहता हूँ अपनी सर-ए-ख़स्ता दुश्वार-ए-वहशत सलामत
نہ اوروں کی سنتا نہ کہتا ہوں اپنی سر خستہ دشوار وحشت سلامت
میں نہ دوسروں کی سنتا ہوں اور نہ اپنا حال کسی سے کہتا ہوں؛ میرا یہ خستہ حال سر اور دیوانگی کی یہ کٹھن وحشت سلامت رہے۔
8
वफ़ूर-ए-बला है हुजूम-ए-वफ़ा है सलामत मलामत मलामत सलामत
وفور بلا ہے ہجوم وفا ہے سلامت ملامت ملامت سلامت
یہاں مصیبتوں کی کثرت اور وفا کا ہجوم ہے؛ زمانے کی ملامت اور طعنے ہمیشہ سلامت رہیں۔
9
न फ़िक्र-ए-सलामत न बीम-ए-मलामत ज़े-ख़ुद-रफ़्तगी-हा-ए-हैरत सलामत
نہ فکر سلامت نہ بیم ملامت ز خود رفتگی‌ ہائے حیرت سلامت
نہ اپنی سلامتی کی کوئی فکر ہے اور نہ ملامت یا رسوائی کا کوئی ڈر؛ بس حیرت کے عالم میں خود کو بھول جانے کی یہ بے خودی سلامت رہے۔
10
रहे 'ग़ालिब'-ए-ख़स्ता मग़्लूब-ए-गर्दूं ये क्या बे-नियाज़ी है हज़रत-सलामत
رہے غالبؔ خستہ مغلوب گردوں یہ کیا بے نیازی ہے حضرت سلامت
کیا خستہ حال غالب ہمیشہ گردشِ فلک اور زمانے سے مغلوب ہی رہے؟ اے حضور، یہ آپ کی کیسی بے نیازی اور بے پرواہی ہے؟
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

رہا گر کوئی تا قیامت سلامت | Sukhan AI