“If fate turns not to grant my wounded heart's desire, so be it—long live the soul-gnawing torment of unfulfilled yearning!”
اگر گردشِ زمانہ میرے رنجیدہ دل کی خواہش کے مطابق نہیں چلتی تو کوئی پروا نہیں، نامکمل حسرتوں کے جوش میں جگر کا لہو ہونا ہی سلامت رہے۔
اس شعر میں شاعر گردشِ دوراں اور زمانے کی بے رخی کے سامنے جھکنے کے بجائے ایک کمال کی خودداری کا اظہار کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر آسمان میرے دلِ فگار کی مراد بر نہیں لاتا تو کوئی ملال نہیں، کم از کم میری حسرتوں کا یہ جگر جلانے والا تلاطم تو سلامت ہے! یہاں درد و کرب کو شکست ماننے کے بجائے جینے کا ولولہ اور عشق کا سرمایہ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
