“No care for safety, no dread of reproach; long live the ecstatic self-abandonment born of wonder!”
نہ اپنی سلامتی کی کوئی فکر ہے اور نہ ملامت یا رسوائی کا کوئی ڈر؛ بس حیرت کے عالم میں خود کو بھول جانے کی یہ بے خودی سلامت رہے۔
یہ شعر حیرت اور محویت کی اس دلکش کیفیت کو بیان کرتا ہے جہاں انسان اپنے محبوب یا کسی جلوے کے سامنے دنیا و مافیہا سے بالکل بے نیاز ہو جاتا ہے۔ یہاں نہ تو اپنی جان یا عافیت بچانے کی کوئی فکر باقی رہتی ہے اور نہ ہی زمانے کے طعنوں اور ملامت کا کوئی ڈر۔ شاعر اس عالمِ بے خودی کو شاد باد کہہ رہا ہے، کیونکہ عشق کی حیرت میں خود کو گنوا دینا دراصل روح کی سب سے بڑی رہائی اور سکون ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
